ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُڈپی: آن لائن فوڈ ڈیلیوریز کےذریعہ طلبہ کومنشیات کی سربراہی کا سنسنی خیز انکشاف

اُڈپی: آن لائن فوڈ ڈیلیوریز کےذریعہ طلبہ کومنشیات کی سربراہی کا سنسنی خیز انکشاف

Sat, 25 Feb 2023 11:54:39    S.O. News Service

اُڈپی،25/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی)  کرناٹک کے ساحلی علاقہ اڈپی اور مینگلور میں گذشتہ روز میڈیکل اور دیگر طلباء سمیت پروفیسرس بھی مبینہ طور پر منشیات معاملے میں ملوث پائے گئے تھے، اب تحقیقات میں کچھ چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آن لائن فوڈ ڈیلیوریز کے ذریعہ منشیات کو طلباء کے کمروں تک پہنچائی جاتی تھیں اور گھڑی کے نام پر ایل ایس ڈی خریدی جاتی تھی۔

 ساحلی کرناٹک کی پولس جو منشیات کی لعنت کے خلاف کمربستہ ہے، نے جنوری میں منگلورو میں میڈیکل طلباء اور پروفیسرس کے ریکٹ کو بے نقاب کیاتھا اور 24افراد کو گرفتار کیا گیاتھا جن میں 22افراد کا تعلق میڈیکل برادری سے ہے۔

یاد رہے کہ اترپردیش، کرناٹک، کیرالا، تلنگانہ اور نئی دہلی  کے ڈاکٹرس کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ان سب کی عمریں 20سے 30سال کے درمیان ہیں۔ کستوربا میڈیکل کالج منگلورو نے منشیات فروشی اور استعمال کے الزامات کے تحت دو میڈیکل ڈاکٹروں کو برطرف بھی کردیا۔ اسی طرح پولیس نے اڈپی ضلع میں ڈرگ مافیا کی جڑ پر وار کیا۔

اُڈپی تعلیمی مرکز کے طور پر مشہور ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ہکے اکشے ماچندرا نے تعلیمی اداروں کو منشیات کے استعمال اور اس کی فروخت میں ملوث طلباء کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اڈپی ضلع کی منی پال اکیڈیمی برائے اعلیٰ تعلیم (ایم اے ایچ ای) نے پولیس محکمہ کی ہدایت کے بعد 42طلباء کو ایک ماہ کے لیے معطل کردیا تھا۔

پولیس درائع کے مطابق کئی طلباء  منشیات فروش بن گئے تھے، اور کئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ طلباء ایم ڈی ایم اے، ایل ایس ڈی اور گانجہ استعمال کرتے تھے۔ یہ منشیات میڈیکل، مینجمنٹ، ہوٹل مینجمنٹ اور انجینئرنگ کے طلباء کے کمروں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ طلباء غذا پہنچانے والی آن لائن کمپنیوں سے کھانے کا آرڈر دیتے اور منشیات رات دیر گئے کھانے کے پارسل میں پہنچائی جاتیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک ڈیلوری بوائے کی گرفتار ی کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی۔

ایل ایس ڈی کے پارسل پر گھڑی کی تفصیلات درج ہوتیں۔ طلباء اسے گھڑیاں آرڈر کرنے کے بہانے حاصل کرتے۔ ذرائع کی مانیں تو اُڈپی کے طلباء کے ہاسٹلوں پر دھاوا کرنے والی پولیس ٹیمیں جب  کمروں اور ہاسٹل کے احاطہ میں پہنچیں تو کانڈمس کے ڈھیر دیکھ کر حیران رہ گئیں تھیں۔ پولیس  ذرائع نے کہا کہ لڑکے اور لڑکیاں مل کر منشیات کا استعمال کرتے تھے۔

اپنی معشوقاؤں کو منشیات دینا عام بات ہوگئی تھی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ منشیات اڈپی اورمنی پال منگلورو، کیرالا اور گوا کو سربراہ کی جاتیں۔ ڈرگ مافیا نے طلباء برادری میں منشیات فروشوں کا نیٹ ورک قائم کرلیا تھا۔ کئی طلباء ہفتہ کے اختتام پر سیر و تفریح کے بہانے گوا جاتے اور منشیات اپنے ہاسٹلس کو لے آتے۔ پولیس محکمہ نے منی پال اکیڈیمی کی ستائش کی ہے جس نے اس لعنت کو ختم کرنے طلباء کے خلاف سخت قدم اٹھایا۔


Share: